Breaking News

گرفتاریوں کا خوف یا کچھ اور۔۔؟؟؟ مسلم لیگ (ن) نے ڈر کے مارے کیا کام کرنا شروع کردیا؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام 13 دسمبر کو لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم کے احتجاجی جلسے کے پیش نظر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے پکڑے جانے کے ڈر سے اپنی عبوری ضمانتیں کروانا شروع کر دی ہیں، بتایا گیا ہے کہ متعدد (ن) لیگی کارکنوں نے بھی عدالتوں میں

 

اپنی درخواست ضمانت دائر کر دی ہیں، واضح رہے کہ درخواستیں دائر کرنے والے کارکنوں کے خلاف چند روز نیب آفس کے باہر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے الزامات میں مقدمات درج کر رکھے تھے، بیشتر کارکنوں نے تھانہ چوہنگ کی طرف سے 200 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمات کے پیش نظر اپنی درخواست ضمانت دائر کی ہیں۔دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی نے پشاور کی ضلعی انتظامیہ کے پی ڈی ایم جلسے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔پی پی پی خیبرپختونخوا کے جنرل سیکریٹری فیصل کریم کنڈی نے اعلان کیا ہے کہ پشاور میں جلسہ ہر صورت میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ حکومتی دباؤ میں آکر پی ٹی آئی کی بی ٹیم کا کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اور جیالے تیاری کرلیں، 22 نومبر کو دمادم مست قلندر ہوگا۔ انہوں نے کہا پشاور میں تاریخی پاور شو کرکے اپوزیشن پی ٹی آئی کی گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دے گی۔دوسی جانب ایک اور خبر کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کے ترجمان میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کا 22 نومبر کو پشاور جلسہ ہرصورت ہوگا۔جاری بیان میں ترجمان پی ڈی ایم نے کہا ہے کہ پشاور جلسے کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے پاور شوز سے گھبرا کرحکومت کو کورونا یاد آگیا ہے۔ترجمان پی ڈی ایم کے مطابق کارکنان کورونا ایس اوپیز پرعمل پیرا ہوکر اور ماسک پہن کر جلسے میں شرکت کریں گے۔ انتقامی کارروائیوں سے اپوزیشن کی تحریک رکےگی نہیں بلکہ رفتار مزید تیز ہوگی خیال رہے کہ پی ڈی ایم نے گزشتہ روز چارٹر آف پاکستان سے متعلق پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی تھی جو میثاق پاکستان مسودے پر سفارشات تیار کرے گی۔

About Arooj

Check Also

5 سال بعد پاکستان کے نمبر 1وزیراعلیٰ کون ہونگے؟وزیراعظم عمران خان نے نام لے کر بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار5 سال بعد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *